اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پچھلی رپورٹ میں بیان ہوا کہ یہ تصور کہ جو سبب بنتا ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر ایک طاقت کے طور پر ابھرتا ہے، ایک ایسا تصور ہے جو اس نے امریکی سپنے (American Dream) کے سانچے میں اپنے لئے ڈھالا ہوا ہے۔ اسی تصور کی بنیاد پر ہی امریکہ ان دنیا کے ایک بڑے حصے میں اپنے آپ کو ایک مثال اور نمونۂ عمل کے طور پر پیش کیا ہے۔
تیسری دنیا کے بعض ممالک سے قطع نظرـ جو امریکی لوٹ مار، جارحیتوں اور فوجی بغاوتوں کی آماجگاہ رہے ہیں ـ ایشیا اور یورپ کے بعض حصوں میں یہی امریکی سپنا ہے جو امریکی فوجی اڈوں کے بجائے ان ممالک کی رائے عامہ پر حکمرانی کررہا ہے۔
اس کے باوجود حالیہ برسوں میں یہ سپنا امریکیوں کے ذہن میں بھی اور عالمی رائے عامہ کے نزدیک بھی، چورچور ہوگیا ہے۔
اس ابتری کے اسباب متنوع اور متعدد ہیں، لیکن چند زمروں میں ان کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔
*امریکی قرضوں کے بحر بیکراں میں ڈوب جائیں گے
پہلا مسئلہ امریکہ کے قومی قرضے ہیں جن میں ہر لمحے کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ سلسلہ ایک ایسے نقطے پر پہنچے گا جہاں اس صورت حال کی بقاء ناممکن ہوجائے گی۔
امریکی کانگریس کے مالیاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ـ جو کہ "بجٹ اور اقتصادی زاویۂ نگاہ" کے عنوان سے ماہ اگست سنہ 2010عمیں شائع ہوئی ـ قومی قرضہ جات ـ مجموعی قومی پیداوار میں فیصد کے طور پر، مجموعی اندرونی قومی پیداوار (GDP) کے 60 فیصد کے برابر ہیں؛ اور 2018عمیں جی ڈی پی کے 100فیصد کے برابر ہوچکے ہیں۔
یہ بہت افسوسناک اعداد و شمار ہیں لیکن یہ اعداد و شمار امریکہ کو بدترین ریکارڈ کے حامل ممالک کے زمرے میں نہیں لاتے۔ (اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم "او ای سی ڈی" (Organisation for Economic Cooperation and Development [OECD]) کی رپورٹ کے مطابق، جاپان کے قومی قرضے اس ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے 250فیصد کے برابر ہیں اور یونان اور اطالیہ کے قومی قرضے بھی ان ملکوں کی مجموعی پیداوار کے 100فیصد کے برابر ہیں)۔
اس کے باوجود بےبی بومرز (Baby boomers) (2) کی سبکدوشی سے کے نتیجے میں لازم آنے والی منظم بجٹ کٹوتی (یا بجٹ خسارے) سے ایک عظیم اور طویل المدت مسئلے کا پتہ ملتا ہے۔ اپریل 2010عمیں بروکنگز انسٹی ٹیوشن (Brookings Institution) نے ایک مطالعے کے ضمن میں مختلف مفروضوں کے تحت امریکہ کے قومی قرض (National Debt) کا جائزہ لے کر مستقبل کے بارے میں پیشگوئیاں کی ہیں۔ اس تحقتق میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ اگر امریکی حکومت اگلے سال بھی اوباما کے 2011عکے بجٹ کی طرح کا بجٹ پیش کرے تو سنہ 2025عمیں امریکی قرضہ 6/108 فیصد ہوگا۔ اس مفروضے کے مطابق کہ ان عظیم اخراجات کی ادائیگی کے لئے ٹیکس میں زبردست اضافے کی ضرورت ہوگی جبکہ امریکی قوم کو اس قسم کے کسی اضافے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ ایک ناگزیر حقیقت یہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ کی قومی مقروضیت میں اضافہ ـ چین سمیت لیندار ممالک کے منصوبوں کے سامنے ـ اس کی زدپذیری (Vulnerability) میں اضافہ کرے گا۔ یہ مسئلہ دنیا کے محفوظ ذخیرے کے طور پر ڈالر کی پوزيشن کو کمزور کرے گا اور عالمی معاشی نمونے (Model) کے طور پر امریکی معیشت کے کردار کو کمزور کردے گا، اور دنیا کی مالیاتی تنظیموں ـ مرجملہ جی20، عالمی بینک اور آئی ایم ایف ـ میں امریکی کی قائدانہ حیثیت کو گزند پہنچائے گا نیز اندرونی مسائل کے حل کے سلسلے میں امریکہ کی صلاحیتوں کو محدود کردے گا۔ حتی ایسے وقت بھی آئے گا جب امریکہ ایک ناگزیر جنگ کے اخراجات سے عہدہ بھی بر آ نہیں ہوسکے گا۔
* امریکہ کا مایوس کن تناظر
امریکہ کا مایوس کن تناظر کو، سنہ 2010عمیں عمومی امریکی پالیسیوں کے دو حامیوں "راجر سی آلٹمین" (Roger Charles Altman) اور "رچرڈ این ہاس" (Richard Nathan Haass) نے فارن افیئرز کی ویب گاہ میں اپنا ایک مشترکہ مضمون "امریکی فضول خرچی اور امریکی طاقت" (American Profligacy and American Power) میں ناامیدی سے بھرپور الفاظ میں، مختصر طور پر بیان کیا ہے: "سنہ 2020عکے ما بعد کے کا مالیاتی تناظر، قطعی طور پر دو وجوہات کی بناء پر آخر الزمانی تناظر کی طرح ہے، نہایت خوفناک اور نامعلوم۔۔۔ امریکہ بڑی تیزرفتاری سے اہم تاریخی موڑ کی طرف بڑھ رہا ہے؛ جہاں یا تو اسے چارہ کرنا پڑے گا تا کہ وہ اپنے موجود مالی مسائل کو درست کرے؛ کہ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائے تو اس صورت میں وہ اپنی عالمی برتری اور فوقیت کے لئے لازمی شرطیں فراہم کرسکے گا یا پھر ایسا کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے گا تو اسے اندرونی سطح پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی، ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
اگر امریکہ ایک سنجیدہ اصلاحی پروگرام کے اہتمام کو ـ جو حکومت کے اخراجات کو کم اور اس کی آمدنیوں میں اضافہ کرے ـ مزید مؤخر کرے تو یقینا اس کا انجام ان سابقہ بڑی طاقتوں ہی کا انجام ہوگا جو مالیاتی لحاظ سے مفلوج ہوچکی تھیں؛ خواہ قدیم روم ہو خواہ بیسویں صدی کا برطانیہ۔
*مالیاتی نظام جو امریکہ کو نگل دے گا
دوسرا مسئلہ امریکہ کا معیوب اور ناقص مالیاتی نظام ہے جو درد سر کا باعث اور بہت بڑی مشکل ہے۔ یہ نظام کم از کم دو شعبوں میں زد پذیر ہے:
پہلی بات یہ ہے کہ یہ نظام نہایت خطرناک اور جاہ طلبانہ طرز سلوک کی وجہ سے ایک لمحاتی بم (moment bomb) کی صورت اختیار کرگیا ہے جو نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی معیشت کو بھی خطرات سے دوچار کررہا ہے۔
اور دوسری بات یہ کہ اس نظام نے اس قدر اخلاقی خطرات پیدا کئے ہیں کہ اندرون ملک تشدد اور غیظ و غضب کا باعث بنا ہے اور بیرون ملک امریکی جاذبیتوں کو ـ اپنی دشوار سماجی صورت حال کی بنا پر ـ مخدوش کرکے رکھ دیا ہے۔
سرمایہ کار بینکوں اور تجارتی اداروں کی زیادہ روی اور عدم توازن ـ کانگریس کے غیرذمہ دارانہ طرز سلوک اور جائیداد خریدنے کے لئے قرضہ دینے والے مالیاتی اداروں سے نگرانی اور کنٹرول اٹھانے کی بنا پر ترغیب شدہ نیز لالچی بازارہائے حصص کی تحریک پر ـ سنہ 2008عکے مالیاتی بحران اور بعدازاں معاشی بدحالی (Economic downturn) کا سبب بنا جس نے کئی ملین انسانوں کو مالیاتی مشکلات اور دشواریوں سے دوچار کیا۔
بازار حصص کے دلالوں اور بینکاروں نے بازار حصص اور سرمائے کو نقصان سے بچانے کے لئے قائم فنڈز، مؤثر طور پر حصص مالکان سے محفوظ تھے، اور انھوں نے کوئی معاشی جدت متعارف کرائے بغیر عظیم ذاتی منافع جیب میں ڈال دیا اور یوں جو بد تھا وہ بدتر ہوگیا۔ سنہ 2008عکے مالی بحران نے بالادست طبقات اور عام لوگوں کی زندگی کے درمیان شدید اختلاف کو عیاں کردیا اور واضح کیا کہ مالیاتی اشرافیہ عوام کی روزمرہ زندگی سے مکمل طور پر بےخبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 2008عسے قبل، مالیاتی اداروں ـ یعنی بینکوں، بازار اور حصص مارکیٹوں وغیرہ ـ میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں اور غیر مالیاتی نجی اداروں میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں میں اختلاف 1/7 فیصد تھا؛ اور تنخواہوں میں یہ اختلاف دوسری عالمی جنگ کے بعد آج تک نہیں دیکھی گئی ہے۔
امریکہ کے لئے دوسری طاقتوں کے ساتھ رَقابَت (Competition) جاری رکھنے کی صلاحیت قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے مالیاتی نظام کو ایک سادہ ـ مگر مؤثر ـ نظم اور قواعد سے استفادہ کرنا چاہئے کہ یہ قواعد کام کی شفافیت میں اضافہ کریں اور اداروں کو جوابدہ بنا دیں؛ اور اس نظام کو ایسے حال میں کہ اقتصادی ترقی کو ترغیب دے رہا ہو، اصلاح کریں۔ تاہم، موجودہ صورت حال بتا رہی ہے کہ آمریکی ایسا کرنے سے عاجز تھے، اور ہیں؛ اور بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ بہت جلد اور سنہ 2012عمیں، ایک نئے عالمی مالیات بحران سے دوچار ہوجائے گا؛ ایسا بحران جو شاید ڈونلڈ ٹرمپ کا تختہ بھی الٹ دے۔
*عدم مساوات اور ناانصافی کے لحاظ سے بدترین معاشرہ
تیسرا مسئلہ سالانہ آمدنی کے درمیان عدم مساوات اور ساتھ ساتھ معاشرتی حرکت پذیری کا انجماد ہے۔ یہ سماجی آگہی اور جمہوری پائیداری کے لئے طویل المدت خطرہ ہے۔ جبکہ سماجی آگہی اور جمہوری پائیداری وہ دو شرطیں ہیں جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے ایک با اثر خارجہ پالیسی کے لئے ضروری ہیں۔
شماریاتی مردم شماری کے مطابق، سنہ 1980عکے بعد، امریکہ میں مالیاتی لحاظ سے طبقاتی دراڑ ہر روز وسیع سے وسیع تر ہوئی ہے۔ سنہ 1980عمیں 5فیصد امریکی اشرافیہ پوری امریکی سالانہ آمدنی کے 16/5 فیصد حصے کی مالک تھی جبکہ معاشرے کا 40 فیصد نچلے طبقے کو حاصل ہونے والی آمدنی سالانہ قومی آمدنی کے 14/4 فیصد کے برابر تھی؛ سنہ 2008عمیں یہ نسبت 21/5 فیصد اور 12 فیصد تھی۔ دولت کی تقسیم ـ نہ کہ ہر خاندان کی سالانہ آمدنی ـ اس سے بھی زیادہ یک رخی ہے: امریکی فیڈرل ریزرو بینک (اسٹیٹ بینک) کی رپورٹ کے مطابق، 2007عمیں (امیرترین خاندانوں پر مشتمل) امریکہ کی صرف 1 فیصد آبادی امریکی قومی دولت کے 33/5 فیصد حصے کی مالک تھی۔ جبکہ امریکہ کی (غریب اور متوسط طبقات پر مشتمل) 50 فیصد آبادی صرف 5/2 فیصد کی مالک تھی۔
دولت کی تقسیم کے اس عمل نے امریکہ کو عالمی معیاروں کے مطابق سالانہ آمدنی اور ذاتی دولت میں عدم مساوات کی بدترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ یہاں تک کہ آج امریکہ ترقی یافتہ ممالک کے درمیان سالانہ آمدنی اور ذاتی دولت میں عدم مساوات کی انتہاؤں پر ہے۔ سالانہ آمدنی میں اس طرح کی عدم مساوات شاید زیادہ قابل قبول ہو بشرطیکہ امریکی مالے سپنے تک پہنچنے کے لئے ایک سماجی سرگرمی اس کا ساتھ دے۔ لیکن گذشتہ کئی عشروں سے امریکہ کی سماجی حرکت حتمی طور پر جامد رہی جبکہ ان ہی برسوں میں سالانہ آمدنی میں عدم مساوات میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا اور یہ اضافہ کبھی بھی نہیں رکا۔
جینی عددی سر (1) کی دی ہوئی حالیہ معلومات کے مطابق، دنیا کی اہم معیشتوں میں سالانہ آمدنی کے لحاظ سے امریکہ کا رتبہ بدترین ہے۔ گوکہ چین اور روس بھی اس حوالے سے امریکہ کے ہم پلہ ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں البتہ برازیل ایسا ملک ہے جس کا رتبہ اس لحاظ سے امریکہ سے بہتر ہے۔
*مالیاتی کامیابیوں اور ناکامیوں کی سرزمین
علاوہ ازیں، حالیہ تحقیق، جو امریکہ کی دو نسلوں کی مالی آمدنی کی منتقلی کا مختلف یورپی ممالک سے موازنہ کرتی ہے، واضح کرتی ہے کہ ریاستہائے متحدہ "[یعنی] کامیابی کی سرزمین" کی مالیاتی حرکت پذیری دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے کم ہے۔
اس سے بھی بدتر یہ کہ امریکہ کی مالیاتی حرکت پذیری بہت ہی سست روی کے ساتھ بعض یورپی ممالک کے پیچھے پیچھے ترقی کررہی ہے۔ اس مسئلے کی ایک بنیادی وجہ امریکہ کا کمزور، ناقص اور ناکافی تعلیمی و تربیتی نظام ہے۔ تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی (Organization for Economic Co-operation and Development) کی رپورٹ کے مطابق امریکہ پرائمری اور مڈل کی سطح کے ہر طالب علم کی تعلیم و تربیت کے لئے ـ دوسری ممالک کی نسبت ـ کہیں زیادہ اخراجات برداشت کرتا ہے؛ لیکن ابھی تک دنیا کے صنعتی ممالک کے درمیان منعقدہ امتحانات میں سب سے کم نمبر حاصل کرنے والوں میں شامل ہے۔
یہ صورت حال ـ افرادی قوت نامی سرمائے کو چھوڑ دینے اور اس سرمائے سے فائدہ نہ اٹھانے کے بموجب ـ امریکی اقتصادی تناظر کا رس نکال دیتی ہے، جبکہ امریکہ کی عالمی جاذبیت کو تنزلی سے دوچار کرتی ہے۔ اس عدم مساوات اور ناانصافی کی اہم ترین نشانیوں میں سے ایک نشانی کو "عوام کے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے" میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ جو محنت کش اور مزدور امریکی معاشی پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں، اب امریکہ کے اقتصادی اداروں کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کے اظہار کے لئے ہلیری کلنٹن کے رقیب کو ووٹ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کا انتخاب اس ملک میں جاری اقتصادی ظلم و بےرحمی کا انتہاپسندانہ رد عمل تھا۔
گوکہ ابھی واضح نہیں ہے کہ کیا ٹرمپ ان کی توقعات پر پورا اتر سکیں گے اور اس راستے پر گامزن ہوکر ان کے مسائل حل کرسکیں گے یا پھر طبقاتی دراڑوں کو وسیعتر اور حالات کو بد سے بدتر کریں گے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: مہدی پور صفا
ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارسی متن کا لنک: http://fna.ir/bq754a
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ جینی عددی سر (Gini coefficient) جسے کبھی کبھار جینی تناسب (Gini ratio) بھی کہا جاتا ہے، کسی ملک کے رہائشیوں کی آمدنی یا دولت کی تقسیم کی نمائندگی کرنے کے لیے اعداد و شمار کی منتقلی کا اندازہ، اور سالانہ آمدنی میں عدم مساوات واضح کرنے کا پیمانہ ہے۔
2۔ بےیی بومرز (Baby boomers) سنہ 1946عسے 1964عکے درمیان پیدا ہونے والے افراد کو کہا جاتا ہے۔ اس دور کو امریکہ میں شرح پیدائش کے اضافے کے دور کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰